ل و تl-w-t
— لَاتَ: حرفِ نفی، «لَيْسَ» کے مشابہ؛ نحویوں کے ہاں اس کا اسم محذوف اور خبر منصوب ہوتی ہے، اور یہ اکثر «حِيْن» کے ساتھ آتا ہے۔ اہلِ لغت میں اس کی اصل پر اختلاف ہے: بعض نے اسے «لَا» + تاءِ تانیث کہا، بعض نے مستقل کلمہ۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿وَلَاتَ حِيْنَ مَنَاصٍ﴾ (صٓ ۳۸:۳) — یعنی اب بھاگنے کا وقت نہیں۔