ل و ذl-w-dh
(ن) لَاذَ يَلُوْذُ لَوْذًا وَلِيَاذًا (اصلی: لَوَذَ يَلْوُذُ): پناہ لینا، کسی کی آڑ میں چھپ جانا۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
(مفاعلہ) لَاوَذَ يُلَاوِذُ مُلَاوَذَةً وَلِوَاذًا: ایک دوسرے کی آڑ لینا، چھپ چھپا کر کھسک جانا۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿قَدْ يَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ يَتَسَلَّلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًا﴾ (النور ۲۴:۶۳)
نوٹ: «لِوَاذًا» مفاعلہ کا مصدر ہے؛ ثلاثی مجرد کا ہوتا تو واو یاء سے بدل جاتی (لِيَاذًا) — واو کا سلامت رہنا ہی بتاتا ہے کہ یہ مفاعلہ سے ہے۔