(ن) لَطَفَ يَلْطُفُ لُطْفًا: نرمی اور مہربانی کرنا (اردو میں «لطف»: مزہ، لذت، تفریح؛ عربی میں: نرمی، مہربانی)؛ (ک) لَطُفَ يَلْطُفُ لَطَافَةً: لطیف ہونا، یعنی ثقل اور کثافت سے پاک، باریک ہونا (اردو میں «لطافت» اسی معنی میں)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
لَطِيْفٌ (فَعِيْلٌ کے وزن پر صفت): (۱) نہایت مہربان اور نرمی کرنے والا (۲) ایسی باریک تدبیر کرنے والا جس کا احساس نہ ہو (۳) باریک بین (اردو میں «لطیف» اسی معنی میں)؛ اللہ تعالیٰ کے اسماءِ حسنیٰ میں سے۔ ﴿اِنَّ رَبِّيْ لَطِيْفٌ لِّمَا يَشَآءُ﴾ (یوسف ۱۲:۱۰۰)؛ ﴿وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ﴾ (الانعام ۶:۱۰۳)
(تفعّل) تَلَطَّفَ يَتَلَطَّفُ تَلَطُّفًا: اہتمام سے نرمی اور احتیاط برتنا۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿وَلْيَتَلَطَّفْ وَلَا يُشْعِرَنَّ بِكُمْ اَحَدًا﴾ (الکھف ۱۸:۱۹)
اردو میں اس مادے سے: لطیفہ (ہنسی کی بات، مزاحیہ قصہ؛ عربی میں: باریک نکتہ، نازک بات)۔
«یہ حسن و لطافت کیوں؟ وہ قوت و شوکت کیوں» (ضربِ کلیم)