ل ح نl-ḥ-n
(ف) لَحَنَ يَلْحَنُ لَحْنًا: بات کو اس کے ظاہر سے پھیر کر اشارے میں کہنا (اردو میں «لحن»: آواز کا سُر، لہجہ؛ عربی میں: اشارے کی بات، اعراب کی غلطی)؛ اور اسی سے «لَحْن» یعنی گفتگو کا وہ انداز جس سے مقصود سمجھ میں آ جائے۔ نیز اعراب میں غلطی کو بھی لَحْن کہتے ہیں، کہ وہ کلام کو اصل رخ سے ہٹا دیتی ہے۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿وَلَتَعْرِفَنَّهُمْ فِيْ لَحْنِ الْقَوْلِ﴾ (محمد ۴۷:۳۰) — یعنی تم انہیں ان کے اندازِ گفتگو سے پہچان لو گے۔