(س) خَشِيَ يَخْشٰى خَشْيَةً: ڈرنا، خوف رکھنا۔ بعض کتب لغت (مثلاً المعجم الوسیط اور البستان) میں ہے کہ اس فعل کے معنی میں کسی کی تعظیم اور ہیبت کے سبب سے ڈرنے کا مفہوم ہوتا ہے، بلکہ یہی اس کے حقیقی اور بنیادی معنی ہیں۔ ﴿اِنَّمَا يَخْشَي اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا﴾ (فاطر ۳۵:۲۸)
استعمال: عموماً متعدی بنفسہٖ آتا ہے: ﴿ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِيَ رَبَّهُۥ﴾ (البیّنۃ ۹۸:۸)؛ کبھی اس کا مفعول «اَنْ» سے شروع ہونے والا جملہ ہوتا ہے جو محلاً منصوب ہوتا ہے: ﴿اِنِّيْ خَشِيْتُ اَنْ تَقُوْلَ﴾ (طٰہٰ ۲۰:۹۴)؛ اور کبھی «مِنْ» یا «بِ» کا صلہ بھی لگتا ہے: خَشِيَ الْمَوْتَ، وَمِنَ الْمَوْتِ، وَبِاَنْ يَّمُوْتَ۔
اِخْشَ (فعلِ امر): ڈر۔ ﴿فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ﴾ (المائدۃ ۵:۳)
خَشْيَةٌ (وزن فَعْلَة، مصدر): ڈر (اردو میں «خشیت» اسی معنی میں)۔ ﴿وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ اِمْلَاقٍ﴾ (بنی اسرائیل ۱۷:۳۱)