(ن) خَلَقَ يَخْلُقُ خَلْقًا: پیدا کرنا، عدم سے وجود میں لانا۔ ﴿اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ﴾ (العلق ۹۶:۱)
خَلْقٌ تین طرح استعمال ہوتا ہے: (۱) مصدر، بمعنی پیدا کرنا (۲) اسمِ ذات، بمعنی پیدائش (۳) اسم المفعول، بمعنی مخلوق (اردو میں «خلق» اسی معنی میں)۔ ﴿هٰذَا خَلْقُ اللّٰهِ﴾ (لقمٰن ۳۱:۱۱)
خَالِقٌ (اسم الفاعل): پیدا کرنے والا (اردو میں «خالق» اسی معنی میں)۔ ﴿هُوَ اللّٰهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ﴾ (الحشر ۵۹:۲۴)
خَلَّاقٌ (فَعَّالٌ، اسم المبالغہ): بار بار یا لگاتار پیدا کرنے والا (اردو میں «خلّاق» اسی معنی میں)۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِيْمُ﴾ (الحجر ۱۵:۸۶)
(س) خَلِقَ يَخْلَقُ خَلَقًا: نرم ہونا، چکنا ہونا، پرانا ہونا — اس باب سے کوئی لفظ قرآن مجید میں استعمال نہیں ہوا۔
(ک) خَلُقَ يَخْلُقُ خَلَاقَةً: اچھے اخلاق والا ہونا، طبیعت کا نرم و ملائم ہونا — اس باب سے بھی کوئی فعل قرآن میں نہیں آیا۔
خُلُقٌ: طبعی خصلت، طبیعت، عادت (اردو میں «اخلاق» اسی معنی میں)۔ ﴿وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ﴾ (القلم ۶۸:۴)
خَلَاقٌ (اسمِ ذات): بھلائی کا حصہ، وہ بھلائی جو انسان اپنے اخلاق سے حاصل کرتا ہے۔ ﴿وَمَا لَهُۥ فِي الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ﴾ (البقرۃ ۲:۲۰۰)
تفعیل خَلَّقَ يُخَلِّقُ تَخْلِيْقًا: چکنا اور نرم کرنا (اردو میں «تخلیق»: نئی چیز بنانا، ایجاد؛ عربی میں: چکنا و ہموار کرنا، صورت پوری کرنا)؛ مُخَلَّقَةٌ (اسم المفعول): چکنا اور نرم کیا ہوا، پوری بنی ہوئی۔ ﴿مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَّغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ﴾ (الحج ۲۲:۵)
افتعال اِخْتَلَقَ يَخْتَلِقُ اِخْتِلَاقًا: جھوٹ گھڑنا۔ ﴿اِنْ هٰذَآ اِلَّا اخْتِلَاقٌ﴾ (صٓ ۳۸:۷)
اردو میں اس مادے سے: مخلوق، خلقت۔
«تمدن آفریں خلاقِ آئینِ جہاں داری» (بانگِ درا)