(ن) خَلَّ يَخُلُّ خَلًّا: کسی چیز میں سوراخ کرنا۔
خَلٌّ ج خِلَالٌ (اسم ذات): سوراخ؛ کسی چیز کے دو کناروں کا درمیانی فاصلہ، دراڑ۔ ﴿فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّيَارِ﴾ (بنی اسرائیل ۱۷:۵)
خُلَّةٌ ج خِلَالٌ (اسم ذات): ایک طرح کی میٹھی گھاس (یعنی مٹھاس سوراخ کر کے گھاس کے اندر چلی جاتی ہے)؛ پھر استعارةً دوستی کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ﴿لَا بَيْعٌ فِيْهِ وَلَا خُلَّةٌ﴾ (البقرۃ ۲:۲۵۴)
خَلِيْلٌ ج اَخِلَّاءُ (فعیل کے وزن پر صفت): قریبی دوست، خاص دوست (اردو میں «خلیل» اسی معنی میں)۔ ﴿وَاتَّخَذَ اللّٰهُ اِبْرٰهِيْمَ خَلِيْلًا﴾ (النساء ۴:۱۲۵)؛ ﴿اَلْاَخِلَّآءُ يَوْمَئِذٍۢ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ﴾ (الزخرف ۴۳:۶۷)
اردو میں اس مادے سے: خلل۔
«میری نگاہ سے خلل تیری تجلیات میں» (بالِ جبریل)