(ن) خَلَدَ يَخْلُدُ خُلُوْدًا: کسی تبدیلی کے بغیر عرصہ دراز تک ایک حالت میں رہنا۔ ﴿ذٰلِكَ يَوْمُ الْخُلُوْدِ﴾ (قٓ ۵۰:۳۴)
خَالِدٌ ج خٰلِدُوْنَ (اسم الفاعل): ہمیشہ رہنے والا۔ ﴿هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ﴾ (البقرۃ ۲:۳۹)
خُلْدٌ (اسمِ ذات): ہمیشگی، دوام (اردو میں «خلد»: جنت، بہشت؛ عربی میں: ہمیشگی، دوام)۔ ﴿قُلْ اَذٰلِكَ خَيْرٌ اَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ﴾ (الفرقان ۲۵:۱۵)
افعال اَخْلَدَ يُخْلِدُ اِخْلَادًا: کسی کی طرف ہمیشہ کے لئے جھک جانا؛ ہمیشہ رکھنا۔ ﴿وَلٰكِنَّهُۥٓ اَخْلَدَ اِلَي الْاَرْضِ﴾ (الاعراف ۷:۱۷۶)؛ ﴿يَحْسَبُ اَنَّ مَالَهُۥٓ اَخْلَدَهُۥ﴾ (الھمزۃ ۱۰۴:۳)
تفعیل: مُخَلَّدٌ (اسم المفعول): ہمیشہ ایک حال پر رکھا ہوا۔ ﴿وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ﴾ (الواقعۃ ۵۶:۱۷)
«گل و گلزار ترے خلد کی تصویریں ہیں» (بانگِ درا)