خ ب ثkh-b-th
(ک) خَبُثَ يَخْبُثُ خُبْثًا وَخَبَاثَةً: ناپاک، گندا اور ناگوار ہونا — طَيِّب کی ضد (اردو میں «خباثت» اسی معنی میں)۔ ﴿وَالَّذِيْ خَبُثَ لَا يَخْرُجُ اِلَّا نَكِدًا﴾ (الاعراف ۷:۵۸)
خَبِيْث ج خَبِيْثُوْن وَخَبَآئِث (مؤنث خَبِيْثَة ج خَبِيْثٰت): ناپاک، ردی، حرام (اردو میں «خبیث» اسی معنی میں)۔ اہلِ لغت کہتے ہیں کہ خبیث ہر اُس چیز پر بولا جاتا ہے جو ذات، قول یا فعل میں مکروہ ہو۔ قرآن میں یہ مادہ ۱۶ بار آیا ہے۔ ﴿اَلْخَبِيْثٰتُ لِلْخَبِيْثِيْنَ﴾ (النور ۲۴:۲۶)؛ ﴿وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبٰٓئِثَ﴾ (الاعراف ۷:۱۵۷)