ک ی فk-y-f
— كَيْفَ: اسمِ استفہام، مبنی علی الفتح (اردو میں «کیف»: نشہ، سرور، لطف؛ عربی میں: کس طرح، کیا حال)؛ حال اور کیفیت کے بارے میں سوال کے لیے۔ نحوی نکتہ: اس کا اعراب اس کے بعد آنے والے فعل کے مطابق بدلتا ہے — اگر بعد میں فعلِ تام ہو تو حال منصوب، اگر ناقص ہو تو خبر مقدم۔ نیز یہ استفہامِ حقیقی کے علاوہ تعجب اور انکار کے لیے بھی آتا ہے، اور قرآن میں اکثر یہی مقصود ہے۔ قرآن میں ۸۳ بار: ﴿أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَابِ الْفِيْلِ﴾ (الفیل ۱۰۵:۱) اور ﴿كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَكُنْتُمْ أَمْوَاتًا﴾ (البقرۃ ۲:۲۸)۔
اردو میں اس مادے سے: کیفیت۔
«سعیِ پیہم ہے ترازوئے کم و کیفِ حیات» (بانگِ درا)