(ض) كَشَفَ يَكْشِفُ كَشْفًا: (۱) کسی چیز سے پردہ اٹھانا، کھولنا (۲) (تکلیف کو) ہٹانا، دور کرنا (اردو میں «کشف»: باطنی انکشاف، روحانی آگہی؛ عربی میں: پردہ اٹھانا، کھولنا)۔ ﴿فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَآءَكَ﴾ (قٓ ۵۰:۲۲)؛ ﴿وَكَشَفَتْ عَنْ سَاقَيْهَا﴾ (النمل ۲۷:۴۴)؛ ﴿يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ﴾ (القلم ۶۸:۴۲)
كَاشِفٌ، مؤنث كَاشِفَةٌ (اسم الفاعل): کھولنے والا، دور کرنے والا۔ ﴿فَلَا كَاشِفَ لَهُۥٓ اِلَّا هُوَ﴾ (الانعام ۶:۱۷)؛ ﴿لَيْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ كَاشِفَةٌ﴾ (النجم ۵۳:۵۸)
(انفعال) اِنْكَشَفَ يَنْكَشِفُ اِنْكِشَافًا: کھل جانا، پردہ اٹھ جانا، ظاہر ہو جانا (اردو میں «انکشاف، منکشف» اسی معنی میں)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
اردو میں اس مادے سے: انکشاف۔