(ض) كَلَمَ يَكْلِمُ كَلْمًا: زخمی کرنا (كَلْم = زخم)؛ اہلِ لغت کہتے ہیں کہ بات کو بھی کلام اس لیے کہا گیا کہ وہ سننے والے پر اثر ڈالتی ہے۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
كَلِمَةٌ ج كَلِمٰتٌ وَكَلِمٌ (اسمِ ذات): بامعنی لفظ، بات (اردو میں «کلمہ، کلمات» اسی معنی میں)؛ كَلَامٌ: گفتگو، کلام (اردو میں «کلام» اسی معنی میں)۔ ﴿فَتَلَقّٰٓى اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهِۦ كَلِمٰتٍ﴾ (البقرۃ ۲:۳۷)؛ ﴿حَتّٰى يَسْمَعَ كَلٰمَ اللّٰهِ﴾ (التوبۃ ۹:۶)؛ ﴿اِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ﴾ (فاطر ۳۵:۱۰)
(تفعیل) كَلَّمَ يُكَلِّمُ تَكْلِيْمًا: کسی سے بات کرنا، ہم کلام ہونا۔ ﴿وَكَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِيْمًا﴾ (النساء ۴:۱۶۴)
(مفاعلہ) كَالَمَ يُكَالِمُ مُكَالَمَةً وَكِلَامًا: کسی سے بات چیت کرنا، آپس میں گفتگو کرنا (اردو میں «مکالمہ» اسی معنی میں)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
(تفعّل) تَكَلَّمَ يَتَكَلَّمُ تَكَلُّمًا: بولنا، کچھ کہنا (اردو میں «تکلم، متکلم» اسی معنی میں)۔ ﴿يَوْمَ يَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهِۦ﴾ (ھود ۱۱:۱۰۵)
اردو میں اس مادے سے: مکالمہ۔
«وہ خموشی شام کی جس پر تکلم ہو فدا» (بانگِ درا)