Rizwan Zubair

مادّہ ک ل ل

قرآنِ کریم میں اس مادّے کی مثالیں: 5 · English

ک ل لk-l-l

(ض) كَلَّ يَكِلُّ كَلًّا وَكَلَالًا (اصلی: كَلَلَ يَكْلِلُ): (۱) (زیادہ کام سے) تھک جانا (۲) (میت کا) باپ اور اولاد کے بغیر ہونا۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔

كَلٌّ (اسمِ ذات): تھکا دینے والی چیز، بوجھ۔ ﴿وَهُوَ كَلٌّ عَلٰى مَوْلٰىهُ﴾ (النحل ۱۶:۷۶)

كَلٰلَةٌ (اسمِ ذات): وہ میت جس کا نہ باپ زندہ ہو نہ اولاد؛ نیز ایسے میت کے وارث۔ ﴿قُلِ اللّٰهُ يُفْتِيْكُمْ فِي الْكَلٰلَةِ﴾ (النساء ۴:۱۷۶)

كُلٌّ (اسمِ ملازمِ اضافت): سب کے سب، ہر ایک (اردو میں «کل، کلی» اسی معنی میں)۔ ﴿كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ﴾ (اٰل عمران ۳:۱۸۵)

كُلَّمَا (كُلّ + مائے ظرفیہ): ظرف کی تکرار کا مفہوم دیتا ہے: جب کبھی، جب بھی۔ ﴿كُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِّزْقًا﴾ (البقرۃ ۲:۲۵)

كَلَّا (حرفِ ردع): ہرگز نہیں — کسی بات کی مکمل نفی اور جھڑک کے لیے؛ بعض اہلِ لغت نے اسے اسی مادہ سے جوڑا ہے۔ ﴿كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ﴾ (التکاثر ۱۰۲:۳)

باب عربی صیغے اور مشتقات اردو میں مستعمل الفاظ قرآنی آیت سورت و آیت کا حوالہ