(ض) جَرَمَ يَجْرِمُ جَرْمًا: کسی کو کسی برائی پر آمادہ کرنا (اردو میں «جرم، جرائم» اسی معنی میں)؛ پھر مطلقاً آمادہ کرنے کے لیے بھی آتا ہے؛ نیز کمانا۔ ﴿وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓى اَلَّا تَعْدِلُوْا﴾ (المائدۃ ۵:۸)
جَرَمٌ: صاف، یقینی۔ لَا جَرَمَ میں لا منفصلہ ہے، جیسے لَآ اُقْسِمُ کا یہ مطلب نہیں کہ میں قسم نہیں کھاتا، بلکہ لا الگ ہے اور اُقْسِمُ الگ — یعنی «نہیں! میں قسم کھاتا ہوں»۔ ایسے ہی لَا جَرَمَ کا لا بھی منفصل ہے؛ عام قاری کو اس باریکی میں الجھانے کے بجائے عام طور پر اس کا ترجمہ «کوئی شک نہیں» کیا جاتا ہے۔ ﴿لَا جَرَمَ اَنَّ لَهُمُ النَّارَ وَاَنَّهُمْ مُّفْرَطُوْنَ﴾ (النحل ۱۶:۶۲)؛ ﴿لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ﴾ (ھود ۱۱:۲۲)
افعال اَجْرَمَ يُجْرِمُ اِجْرَامًا: برائی کرنا، جرم کرنا (اردو میں «مجرم» اسی معنی میں)۔ ﴿اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِيْنَ مُنْتَقِمُوْنَ﴾ (السجدۃ ۳۲:۲۲)