Rizwan Zubair

مادّہ ح و ل

قرآنِ کریم میں اس مادّے کی مثالیں: 8 · English

ح و لḥ-w-l

(ن) حَالَ يَحُوْلُ حَوْلًا: ایک حالت سے دوسری حالت میں بدلنا: (۱) متحرک ہونا (۲) دو چیزوں کے درمیان حائل ہونا (متحرک ہونے کی وجہ سے) (لازم) (۳) حائل کرنا (متعدی)۔ ﴿وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَحُوْلُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِۦ﴾ (الانفال ۸:۲۴)

حِيْلَ (ماضی مجہول): حائل کیا گیا۔ ﴿وَحِيْلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُوْنَ﴾ (سبا ۳۴:۵۴)

حَوْلٌ (اسم ظرف): (۱) کسی کے اردگرد کی جگہ۔ ﴿فَلَمَّآ اَضَآءَتْ مَا حَوْلَهُۥ﴾ (البقرۃ ۲:۱۷)؛ (۲) ایک سال کا وقت (کیونکہ اس عرصہ میں زمین سورج کے گرد اپنی گردش پوری کرتی ہے)۔ ﴿حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ﴾ (البقرۃ ۲:۲۳۳)

حِوَلٌ: جگہ بدلنا، منتقل ہونا۔ ﴿لَا يَبْغُوْنَ عَنْهَا حِوَلًا﴾ (الکھف ۱۸:۱۰۸)

حِيْلَةٌ: مقصد تک پہنچنے کے لئے پوشیدہ حرکت، خفیہ تدبیر (اردو میں «حیلہ» اسی معنی میں)۔ ﴿لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ حِيْلَةً﴾ (النساء ۴:۹۸)؛ مِحَالٌ: سخت تدبیر و گرفت۔ ﴿وَهُوَ شَدِيْدُ الْمِحَالِ﴾ (الرعد ۱۳:۱۳)

تفعیل حَوَّلَ يُحَوِّلُ تَحْوِيْلًا: متحرک کرنا، الٹنا پلٹنا، تبدیل کرنا (اردو میں «تحویل»: قبضہ، تصرف میں لینا؛ عربی میں: بدلنا، منتقل کرنا)۔ ﴿وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰهِ تَحْوِيْلًا﴾ (فاطر ۳۵:۴۳)

اردو میں اس مادے سے: حال، حالت، احوال، حائل؛ حوالہ (سند، ماخذ کا ذکر؛ عربی میں: منتقلی، سپرد کرنا)۔

باب عربی صیغے اور مشتقات اردو میں مستعمل الفاظ قرآنی آیت سورت و آیت کا حوالہ