(س) حَرَّ يَحَرُّ حُرِّيَّةً وَحَرَارًا: آزاد ہونا (اردو میں «حریت» اسی معنی میں)۔
(ن، ض) حَرَّ يَحُرُّ / يَحِرُّ حَرَارَةً: گرم ہونا (اردو میں «حرارت» اسی معنی میں)۔
حُرٌّ (صفت): آزاد، مردِ حُر (اردو میں «حر» اسی معنی میں)۔ ﴿اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ﴾ (البقرۃ ۲:۱۷۸)
حَرٌّ (اسم ذات): گرمی۔ ﴿قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا﴾ (التوبۃ ۹:۸۱)
حَرُوْرٌ (فَعُوْلٌ کے وزن پر مبالغہ): سخت گرمی، لو، تیز دھوپ۔ ﴿وَلَا الظِّلُّ وَلَا الْحَرُوْرُ﴾ (فاطر ۳۵:۲۱)
حَرِيْرٌ (فَعِيْلٌ کا وزن): باریک ریشم (اردو میں «حریر» اسی معنی میں)۔ ﴿وَلِبَاسُهُمْ فِيْهَا حَرِيْرٌ﴾ (الحج ۲۲:۲۳)
تفعیل حَرَّرَ يُحَرِّرُ تَحْرِيْرًا: کسی کو آزاد کرنا (اردو میں «تحریر»: لکھائی، لکھی ہوئی چیز؛ عربی میں: آزاد کرنا؛ «محرر»: لکھنے والا، منشی؛ عربی میں: آزاد یا وقف کیا ہوا)۔ ﴿فَتَحْرِيْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ﴾ (النساء ۴:۹۲)
مُحَرَّرٌ (اسم المفعول): آزاد کیا ہوا، وقف کیا ہوا۔ ﴿اِنِّيْ نَذَرْتُ لَكَ مَا فِيْ بَطْنِيْ مُحَرَّرًا﴾ (اٰل عمران ۳:۳۵)
«عام حریت کا جو دیکھا تھا خواب اسلام نے» (بانگِ درا)
«قبولِ حق ہیں فقط مردِ حر کی تکبیریں» (ارمغانِ حجاز)
«شبستانِ محبت میں حریر و پرنیاں ہو جا» (بانگِ درا)