(ن، ض) حَلَّ يَحُلُّ / يَحِلُّ حَلًّا وَحِلًّا وَحَلَالًا: بنیادی معنی رسی کھولنا (اردو میں «حل» اسی معنی میں)؛ اس بنیادی مفہوم کے ساتھ مختلف معانی میں آتا ہے:
(ن) حَلَّ يَحُلُّ: (۱) گرہ کھولنا۔ اُحْلُلْ (فعل امر): تو کھول۔ ﴿وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِيْ﴾ (طٰہٰ ۲۰:۲۷)؛ (۲) کسی جگہ اترنا (منزل پر سواری سے اتر کر سامان کی رسیاں کھولتے ہیں)۔ ﴿اَوْ تَحُلُّ قَرِيْبًا مِّنْ دَارِهِمْ﴾ (الرعد ۱۳:۳۱)؛ (۳) احرام کھولنا (احرام کی پابندیاں یعنی بندشیں کھل جاتی ہیں)۔ ﴿وَاِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا﴾ (المائدۃ ۵:۲)
(ض) حَلَّ يَحِلُّ: (۱) واجب ہونا، عَلٰى کے صلہ کے ساتھ۔ ﴿فَيَحِلَّ عَلَيْكُمْ غَضَبِيْ﴾ (طٰہٰ ۲۰:۸۱)؛ (۲) جائز ہونا، حلال ہونا (استعمال کرنے کی بندش کھل جاتی ہے)، لِ کے صلہ کے ساتھ۔ ﴿لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّوْنَ لَهُنَّ﴾ (الممتحنۃ ۶۰:۱۰)
مَحِلٌّ (اسم الظرف): اُترنے کی جگہ، منزل (اردو میں «محل»: قصر، شاہی عمارت؛ عربی میں: اترنے کی جگہ، منزل)۔ ﴿حَتّٰى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُۥ﴾ (البقرۃ ۲:۱۹۶)
حِلٌّ (صفت بھی ہے): جائز، حلال؛ اُترا ہوا، مقیم۔ ﴿وَاَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِ﴾ (البلد ۹۰:۲)
حَلَالٌ (صفت بھی ہے): جائز، حلال (اردو میں «حلال» اسی معنی میں)۔ ﴿يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِي الْاَرْضِ حَلٰلًا طَيِّبًا﴾ (البقرۃ ۲:۱۶۸)
حَلِيْلٌ (فَعِيْلٌ کے وزن پر): شوہر (بیوی کے لیے ہمیشہ حلال ہوتا ہے)؛ حَلِيْلَةٌ ج حَلَائِلُ: بیوی (شوہر کے لیے ہمیشہ حلال ہوتی ہے)۔ ﴿وَحَلَآئِلُ اَبْنَآئِكُمُ الَّذِيْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْ﴾ (النساء ۴:۲۳)
افعال اَحَلَّ يُحِلُّ اِحْلَالًا: کسی چیز کو جائز کرنا، حلال کرنا۔ ﴿وَاَحَلَّ اللّٰهُ الْبَيْعَ﴾ (البقرۃ ۲:۲۷۵)
تفعیل حَلَّلَ يُحَلِّلُ تَحْلِيْلًا وَتَحِلَّةً: کفارہ ادا کرنا (کسی عہد یا قسم کی پابندی کھولنے کے لیے) (اردو میں «تحلیل»: گھل جانا، تجزیہ؛ عربی میں: حلال کرنا، کفارہ دینا)۔ ﴿قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَيْمَانِكُمْ﴾ (التحریم ۶۶:۲)
اردو میں اس مادے سے: محلہ۔