(س) حَفِظَ يَحْفَظُ حِفْظًا: کسی چیز کو ضائع ہونے یا رائیگاں جانے سے بچانا (اردو میں «حفظ، حفاظت» اسی معنی میں)؛ اس بنیادی مفہوم کے ساتھ متعدد معانی میں استعمال ہوتا ہے: (۱) حفاظت کرنا (۲) نگرانی کرنا (۳) یاد کرنا۔ ﴿يَحْفَظُوْنَهُۥ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ﴾ (الرعد ۱۳:۱۱)
اِحْفَظْ (فعل امر): تو حفاظت کر، نگہبانی کر۔ ﴿وَاحْفَظُوْٓا اَيْمَانَكُمْ﴾ (المائدۃ ۵:۸۹)
حَفِيْظٌ (فَعِيْلٌ کا وزن): ہمیشہ اور ہر حال میں (۱) حفاظت یا نگرانی کرنے والا (۲) محفوظ کرنے والا۔ ﴿وَمَآ اَنَا عَلَيْكُمْ بِحَفِيْظٍ﴾ (الانعام ۶:۱۰۴)
حَافِظٌ (اسم الفاعل): حفاظت کرنے والا، نگرانی کرنے والا (اردو میں «حافظ»: قرآن یاد کرنے والا؛ عربی میں: حفاظت و نگرانی کرنے والا)۔ ﴿اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهُۥ لَحٰفِظُوْنَ﴾ (الحجر ۱۵:۹)
مَحْفُوْظٌ (اسم المفعول): حفاظت کیا ہوا (اردو میں «محفوظ» اسی معنی میں)۔ ﴿فِيْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ﴾ (البروج ۸۵:۲۲)
حَفَظَةٌ (جمع): نگہبان، نگران۔ ﴿وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً﴾ (الانعام ۶:۶۱)
مفاعلہ حَافَظَ يُحَافِظُ مُحَافَظَةً: کسی چیز کی مسلسل نگہبانی کرنا، یعنی کسی کام پر ہمیشگی اختیار کرنا (اردو میں «محافظ» اسی معنی میں)۔ حَافِظْ (فعل امر): تو مسلسل نگرانی کر، تو ہمیشگی اختیار کر۔ ﴿حٰفِظُوْا عَلَي الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى﴾ (البقرۃ ۲:۲۳۸)
تفعّل تَحَفَّظَ يَتَحَفَّظُ تَحَفُّظًا: احتیاط برتنا، بچ بچ کر رہنا (اردو میں «تحفظ، تحفظات»: حفاظت، بچاؤ؛ اندیشے؛ عربی میں: احتیاط برتنا)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
استفعال اِسْتَحْفَظَ يَسْتَحْفِظُ اِسْتِحْفَاظًا: کسی چیز کی حفاظت چاہنا، حفاظت سپرد کرنا۔ ﴿بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ﴾ (المائدۃ ۵:۴۴)
اردو میں اس مادے سے: تحفظ (حفاظت، بچاؤ؛ عربی میں: احتیاط، اعتراض کی گنجائش)۔
«ذوقِ حفظِ زندگی ہر چیز کی فطرت میں ہے» (بانگِ درا)