Rizwan Zubair

مادّہ ح ض ر

قرآنِ کریم میں اس مادّے کی مثالیں: 7 · English

ح ض رḥ-ḍ-r

(ن) حَضَرَ يَحْضُرُ حُضُوْرًا: بنیادی مفہوم کسی شہر میں اقامت پذیر ہونا (اردو میں «حضور»: جنابِ والا، تعظیمی خطاب؛ عربی میں: موجود ہونا، سامنے ہونا)؛ اس کے زیادہ تر دو معنی آتے ہیں: (۱) کسی جگہ موجود ہونا۔ (۲) کسی کے سامنے ہونا، یعنی حاضر ہونا۔ ﴿اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ﴾ (البقرۃ ۲:۱۸۰)

حَاضِرٌ (فاعل کے وزن پر صفت): موجود، حاضر (اردو میں «حاضر، حاضری» اسی معنی میں)۔ ﴿وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا﴾ (الکھف ۱۸:۴۹)

حَاضِرَةٌ: حاضر کی مؤنث بھی ہے اور اسم ذات بھی؛ بطور اسم ذات اس کے معنی: کوئی بستی، کوئی شہر۔ ﴿حَاضِرَةَ الْبَحْرِ﴾ (الاعراف ۷:۱۶۳)

افعال اَحْضَرَ يُحْضِرُ اِحْضَارًا: کسی کو کسی کے سامنے لانا، حاضر کرنا۔ ﴿عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّآ اَحْضَرَتْ﴾ (التکویر ۸۱:۱۴)؛ ﴿وَاُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ﴾ (النساء ۴:۱۲۸)

مُحْضَرٌ (اسم المفعول): حاضر کیا ہوا۔ ﴿يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُّحْضَرًا﴾ (اٰل عمران ۳:۳۰)

افتعال اِحْتَضَرَ يَحْتَضِرُ اِحْتِضَارًا: اہتمام سے حاضر کرنا، باری باری سامنے کرنا۔ مُحْتَضَرٌ (اسم المفعول، اسم الظرف کے طور پر بھی): سامنے کیا ہوا، حاضر ہونے کی جگہ یا باری۔ ﴿كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ﴾ (القمر ۵۴:۲۸)

اردو میں اس مادے سے: حضرت (بزرگوں کا تعظیمی لقب؛ عربی میں: موجودگی، سامنا)۔

«حضورِ شاہ میں اہلِ سخن کی آزمائش ہے» (دیوانِ غالب)

باب عربی صیغے اور مشتقات اردو میں مستعمل الفاظ قرآنی آیت سورت و آیت کا حوالہ