(ض) حَبَّ يَحِبُّ حُبًّا: پسند کرنا، پیار کرنا، محبت کرنا۔
(ک) حَبَّ يَحَبُّ حِبًّا (اصلی: حَبُبَ يَحْبُبُ): پسندیدہ ہونا، پیارا ہونا، محبوب ہونا۔ ثلاثی مجرد کا فعل (نہ ض سے نہ ک سے) قرآن میں نہیں آیا۔
اَحَبُّ ج اَحِبَّاءُ (افعل التفضیل): زیادہ پیارا۔ ﴿لَيُوْسُفُ وَاَخُوْهُ اَحَبُّ اِلٰٓى اَبِيْنَا مِنَّا﴾ (یوسف ۱۲:۸)؛ جمع: ﴿نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ وَاَحِبَّآؤُهُۥ﴾ (المائدۃ ۵:۱۸)
حُبٌّ (اسم ذات): پیار، محبت (اردو میں «حب» اسی معنی میں)۔ ﴿وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ﴾ (البقرۃ ۲:۱۶۵)
حَبٌّ واحد حَبَّةٌ (اسم جنس): دانہ (کیونکہ یہ کسانوں کو بہت پیارا ہوتا ہے)۔ ﴿كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ﴾ (البقرۃ ۲:۲۶۱)
افعال اَحَبَّ يُحِبُّ اِحْبَابًا: پیار کرنا، محبت کرنا۔ (یہ مادہ باب ضرب اور باب افعال میں ہم معنی ہے، لیکن اس معنی میں قرآن مجید میں یہ صرف باب افعال سے آیا ہے۔) ﴿اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ﴾ (البقرۃ ۲:۱۹۵)
تفعیل حَبَّبَ يُحَبِّبُ تَحْبِيْبًا: کسی کو کسی کے لیے پیارا بنا دینا۔ ﴿وَلٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَيْكُمُ الْاِيْمَانَ﴾ (الحجرات ۴۹:۷)
استفعال اِسْتَحَبَّ يَسْتَحِبُّ اِسْتِحْبَابًا: کسی کو کسی پر ترجیح دینا، پسند کرنا (اردو میں «مستحب»: فقہی طور پر پسندیدہ عمل؛ عربی میں: ترجیح دیا گیا، پسند کیا گیا)۔ ﴿اَلَّذِيْنَ يَسْتَحِبُّوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا عَلَي الْاٰخِرَةِ﴾ (ابراھیم ۱۴:۳)
اردو میں اس مادے سے: محبت، محبوب، حبیب، احباب۔