(ض) هَوٰى يَهْوِيْ هُوِيًّا (اصلی: هَوَيَ يَهْوِيُ): اوپر سے نیچے گرنا؛ کسی چیز کی طرف جھکنا۔ ﴿وَالنَّجْمِ اِذَا هَوٰى﴾ (النجم ۵۳:۱)
(س) هَوِيَ يَهْوٰى هَوًي: کسی چیز کی خواہش کرنا، پسند کرنا۔ ﴿اَفَكُلَّمَا جَآءَكُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰٓى اَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ﴾ (البقرۃ ۲:۸۷)
هَوًي ج اَهْوَآءٌ (مصدر، اسمِ ذات بھی): (نفس کی) خواہش۔ ﴿وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى﴾ (النجم ۵۳:۳)
هَوَآءٌ (اسمِ ذات): فضا، ہوا (اردو میں «ہوا، ہوائی» اسی معنی میں)؛ ہوا کو قرار نہیں ہوتا، اس لیے خالی پن اور ڈانواں ڈول ہونے کی کیفیت کے لیے آتا ہے۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿وَاَفْـِٕدَتُهُمْ هَوَآءٌ﴾ (ابراھیم ۱۴:۴۳)
هَاوِيَةٌ (اسم الفاعل، مؤنث): گہرا گڑھا؛ جہنم کا ایک نام۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿فَاُمُّهُۥ هَاوِيَةٌ﴾ (القارعۃ ۱۰۱:۹)
(افعال) اَهْوٰى يُهْوِيْ اِهْوَآءً: (اٹھا کر) نیچے گرا دینا۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿وَالْمُؤْتَفِكَةَ اَهْوٰى﴾ (النجم ۵۳:۵۳)
(استفعال) اِسْتَهْوٰى يَسْتَهْوِيْ اِسْتِهْوَآءً: خواہشات کو مزین کر کے دکھانا، بہکا کر (گمراہی میں) گرا دینا۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿كَالَّذِي اسْتَهْوَتْهُ الشَّيٰطِيْنُ فِي الْاَرْضِ حَيْرَانَ﴾ (الانعام ۶:۷۱)