(ض) غَارَ يَغِيْرُ غَيْرًا: کسی چیز سے مختلف ہونا، اس کے علاوہ ہونا۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
غَيْرٌ (اسمِ ذات، اکثر مضاف ہو کر): سوا، علاوہ، مختلف (اردو میں «غیر» اسی معنی میں)؛ نفی کے معنی میں بھی آتا ہے۔ ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ﴾ (الفاتحۃ ۱:۷)
(تفعیل) غَيَّرَ يُغَيِّرُ تَغْيِيْرًا: کسی کی صورت یا صفات بدل دینا۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ﴾ (الرعد ۱۳:۱۱)
(تفعّل) تَغَيَّرَ يَتَغَيَّرُ تَغَيُّرًا: بدل جانا (اردو میں «تغیر» اسی معنی میں)۔ ﴿وَاَنْهٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُهُۥ﴾ (محمد ۴۷:۱۵)
اردو میں اس مادے سے: متغیر۔
«ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں» (بانگِ درا)