(ن) غَارَ يَغُوْرُ غَوْرًا (اصلی: غَوَرَ يَغْوُرُ): نشیب میں اترنا (اردو میں «غور»: سوچ بچار، تدبر؛ عربی میں: گہرائی، نشیب)؛ پانی کا زمین میں اتر کر جذب ہو جانا۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
غَوْرٌ (مصدر بمعنی اسم الفاعل): زمین میں اترا ہوا، گہرا (پانی)۔ ﴿اَوْ يُصْبِحَ مَآؤُهَا غَوْرًا﴾ (الکھف ۱۸:۴۱)؛ ﴿قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا﴾ (الملک ۶۷:۳۰)
غَارٌ (اسمِ ذات): غار (اردو میں «غار» اسی معنی میں)۔ ﴿اِذْ هُمَا فِي الْغَارِ﴾ (التوبۃ ۹:۴۰)؛ مَغَارَةٌ ج مَغٰرٰتٌ (اسم الظرف): نیچے اترنے کی جگہ، غار۔ ﴿اَوْ مَغٰرٰتٍ اَوْ مُدَّخَلًا﴾ (التوبۃ ۹:۵۷)
(افعال) اَغَارَ يُغِيْرُ اِغَارَةً: دشمن پر اچانک دھاوا بولنا، غارت گری کرنا؛ مُغِيْرَةٌ ج مُغِيْرٰتٌ (اسم الفاعل): دھاوا بولنے والی۔ ﴿فَالْمُغِيْرٰتِ صُبْحًا﴾ (العٰدیٰت ۱۰۰:۳)
اردو میں اس مادے سے: غارت (تباہ و برباد؛ لوٹ مار؛ عربی میں: اچانک دھاوا، چھاپا)۔