(س) غَرِمَ يَغْرَمُ غُرْمًا وَغَرَامَةً: (۱) کسی چیز کا کسی سے چمٹ جانا (۲) اپنے کسی جرم یا غلطی کے بغیر نقصان میں پھنسنا، مفت کے تاوان میں پڑنا۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
غَرَامٌ (اسمِ ذات): چمٹ جانے والی چیز، لازمی اور دائمی عذاب۔ ﴿اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا﴾ (الفرقان ۲۵:۶۵)
مَغْرَمٌ (مَفْعَلٌ کے وزن پر اسم الظرف، مگر اسمِ ذات کے طور پر مستعمل): تاوان، چٹی۔ ﴿فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَ﴾ (الطور ۵۲:۴۰)
غَارِمٌ ج غٰرِمِيْنَ (اسم الفاعل): تاوان یا قرض میں پھنسا ہوا۔ ﴿وَالْغٰرِمِيْنَ وَفِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ﴾ (التوبۃ ۹:۶۰)
(افعال) اَغْرَمَ يُغْرِمُ اِغْرَامًا: کسی پر تاوان ڈالنا؛ مُغْرَمٌ (اسم المفعول): جس پر تاوان ڈالا گیا ہو۔ ﴿اِنَّا لَمُغْرَمُوْنَ﴾ (الواقعۃ ۵۶:۶۶)