غ م مgh-m-m
(ن) غَمَّ يَغُمُّ غَمًّا (اصلی: غَمَمَ يَغْمُمُ): کسی چیز کو ڈھانپ دینا۔ اہلِ لغت کہتے ہیں کہ غم کو غَمّ اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ خوشی کو ڈھانپ لیتا ہے، اور بادل کو غَمَام اس لیے کہ وہ روشنی کو ڈھانپ لیتا ہے۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
غَمٌّ (اسمِ ذات بھی): غم، رنج (اردو میں «غم» اسی معنی میں)۔ ﴿فَاَثَابَكُمْ غَمًّۢا بِغَمٍّ﴾ (اٰل عمران ۳:۱۵۳)
غَمَامٌ (اسمِ جنس): بادل۔ ﴿وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ﴾ (البقرۃ ۲:۵۷)
غُمَّةٌ: ڈھکی ہوئی، مبہم اور الجھی ہوئی بات۔ ﴿ثُمَّ لَا يَكُنْ اَمْرُكُمْ عَلَيْكُمْ غُمَّةً﴾ (یونس ۱۰:۷۱)
اردو میں اس مادے سے: مغموم۔