(ض) فَاضَ يَفِيْضُ فَيْضًا (اصلی: فَيَضَ يَفْيِضُ): لبریز ہو کر بہہ نکلنا، ابل پڑنا (اردو میں «فیض، فیضان»: برکت، نوازش، فیضِ روحانی؛ عربی میں: لبریز ہو کر بہنا، ابل پڑنا)۔ ﴿تَرٰٓى اَعْيُنَهُمْ تَفِيْضُ مِنَ الدَّمْعِ﴾ (المائدۃ ۵:۸۳)
(افعال) اَفَاضَ يُفِيْضُ اِفَاضَةً: (۱) یکبارگی پانی انڈیلنا (۲) لوگوں کا ریلے کی طرح جوق در جوق نکلنا (۳) کسی بات میں پوری طرح مشغول ہو جانا۔ ﴿فَاِذَآ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ﴾ (البقرۃ ۲:۱۹۸)؛ ﴿ثُمَّ اَفِيْضُوْا مِنْ حَيْثُ اَفَاضَ النَّاسُ﴾ (البقرۃ ۲:۱۹۹)؛ ﴿اِذْ تُفِيْضُوْنَ فِيْهِ﴾ (یونس ۱۰:۶۱)
(استفعال) اِسْتَفَاضَ يَسْتَفِيْضُ اِسْتِفَاضَةً: (پانی یا خبر کا) پھیل جانا، عام ہو جانا (اردو میں «مستفیض، استفاضہ»: کسی سے فیض حاصل کرنا؛ عربی میں: پھیل جانا، عام ہونا)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
اردو میں اس مادے سے: فیاض۔
«یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی» (بالِ جبریل)