ف ل قf-l-q
(ض) فَلَقَ يَفْلِقُ فَلْقًا: کسی چیز کو پھاڑ کر اس میں سے کوئی چیز ظاہر کرنا، جیسے رات کی تاریکی کو پھاڑ کر صبح کی روشنی، یا دانے کو پھاڑ کر کونپل نکالنا۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
فَالِقٌ (اسم الفاعل): (۱) پھاڑنے والا (۲) ظاہر کرنے والا۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوٰى﴾ (الانعام ۶:۹۵)؛ ﴿فَالِقُ الْاِصْبَاحِ﴾ (الانعام ۶:۹۶)
فَلَقٌ: کسی چیز کے پھٹنے سے ظاہر ہونے والی چیز، جیسے صبح، پودا وغیرہ۔ ﴿قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ (الفلق ۱۱۳:۱)
(انفعال) اِنْفَلَقَ يَنْفَلِقُ اِنْفِلَاقًا: پھٹ جانا۔ ﴿فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيْمِ﴾ (الشعراء ۲۶:۶۳)