Rizwan Zubair

مادّہ ف ح ش

قرآنِ کریم میں اس مادّے کی مثالیں: 3 · English

ف ح شf-ḥ-sh

(ک) فَحُشَ يَفْحُشُ فُحْشًا: حد سے زیادہ برا ہونا (اردو میں «فحش» اسی معنی میں)؛ بے حیا ہونا، کھلم کھلا برائی کرنا۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔

فَاحِشَةٌ ج فَوَاحِشُ (اسم الفاعل، اسمِ ذات کے طور پر): بے حیائی کا کام، کھلی برائی (اردو میں «فاحشہ»: بدکار عورت؛ عربی میں: کھلی برائی، بے حیائی کا کام)۔ ﴿وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ﴾ (الانعام ۶:۱۵۱)؛ ﴿اِنَّهُۥ كَانَ فَاحِشَةً وَّسَآءَ سَبِيْلًا﴾ (بنی اسرائیل ۱۷:۳۲)

فَحْشَآءُ (اسمِ ذات): قبیح گناہ، اعلانیہ بے حیائی۔ ﴿اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْكَرِ﴾ (العنکبوت ۲۹:۴۵)

اردو میں اس مادے سے: فاحش۔

باب عربی صیغے اور مشتقات اردو میں مستعمل الفاظ قرآنی آیت سورت و آیت کا حوالہ