ض غ نḍ-gh-n
(س) ضَغِنَ يَضْغَنُ ضِغْنًا: دل میں کینہ رکھنا۔ ضِغْن ج أَضْغَان: پرانا کینہ، وہ بغض جو دل میں دبا رہے۔ اہلِ لغت کہتے ہیں کہ اصل مفہوم ٹیڑھے پن اور جھکاؤ کا ہے، اور کینہ کو ضغن کہنا اس لیے کہ دل حق سے ٹیڑھا ہو جاتا ہے۔ قرآن میں دو بار، اور دونوں سورۂ محمد میں: ﴿أَمْ حَسِبَ الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ أَنْ لَّنْ يُّخْرِجَ اللّٰهُ أَضْغَانَهُمْ﴾ (محمد ۴۷:۲۹) اور ﴿وَيُخْرِجْ أَضْغَانَكُمْ﴾ (محمد ۴۷:۳۷)۔