(ف) ضَعَفَ يَضْعَفُ ضَعْفًا: کسی چیز کو زیادہ کرنا۔
(ک) ضَعُفَ يَضْعُفُ ضَعَافَةً: کمزور ہونا۔ ضَعْفٌ اور ضُعْفٌ (اسم ذات): کمزوری (اردو میں «ضعف» اسی معنی میں)۔ ضَعِيْفٌ ج ضِعَافٌ اور ضُعَفَاءُ (فَعِيْلٌ کے وزن پر صفت): کمزور (اردو میں «ضعیف»: بوڑھا، عمر رسیدہ؛ عربی میں: کمزور، ناتواں)۔ اَضْعَفُ (افعل التفضیل): زیادہ کمزور۔ ﴿وَخُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِيْفًا﴾ (النساء ۴:۲۸)؛ ﴿اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضَعْفٍ﴾ (الروم ۳۰:۵۴)
ضِعْفٌ ج اَضْعَافٌ: دوگنا یا کئی گنا (واحد لفظ ضِعْفٌ بھی دوگنے کے لیے آتا ہے اور اس کا تثنیہ ضِعْفَيْنِ بھی آتا ہے)۔
(افعال) اَضْعَفَ يُضْعِفُ اِضْعَافًا: زیادہ کرنا، بڑھانا۔ مُضْعِفٌ (اسم الفاعل): زیادہ کرنے والا۔ ﴿فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ﴾ (الروم ۳۰:۳۹)
(مفاعلہ) ضَاعَفَ يُضَاعِفُ مُضَاعَفَةً: گنوں میں بڑھانا، ضرب دے کر بڑھانا (اردو میں «مضاعف» اسی معنی میں)۔ ﴿فَيُضٰعِفَهُۥ لَهُۥٓ اَضْعَافًا كَثِيْرَةً﴾ (البقرۃ ۲:۲۴۵)
(استفعال) اِسْتَضْعَفَ يَسْتَضْعِفُ اِسْتِضْعَافًا: کسی کو کمزور سمجھنا۔ مُسْتَضْعَفٌ (اسم المفعول): صفت کے طور پر آتا ہے، کمزور سمجھا ہوا یعنی کمزور۔ ﴿اِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُوْنِيْ﴾ (الاعراف ۷:۱۵۰)
«کر دیا ضعف نے عاجز غالبؔ» (دیوانِ غالب)