د و نd-w-n
— اس مادہ سے قرآن میں کوئی فعل وارد نہیں۔ اہلِ لغت کہتے ہیں کہ اصل مفہوم پستی اور قربت کا ہے۔
دُوْن: ظرف، بمعنی «سوا، علاوہ، ورے، نیچے»؛ ہمیشہ مضاف آتا ہے، اور «مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ» قرآن کی نہایت کثیر الاستعمال ترکیب ہے یعنی اللہ کو چھوڑ کر۔ قرآن میں ۱۴۴ بار: ﴿وَادْعُوْا شُهَدَآءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ﴾ (البقرۃ ۲:۲۳)؛ ﴿وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَآءُ﴾ (النساء ۴:۴۸)
تفعیل دَوَّنَ يُدَوِّنُ تَدْوِيْنًا: بکھری ہوئی چیزوں کو جمع کر کے لکھنا، کتابی صورت میں مرتب کرنا (اردو میں «تدوین، مدوّن» اسی معنی میں)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔