(ن) دَخَلَ يَدْخُلُ دُخُوْلًا: داخل ہونا، کسی سے ملاقات کرنا (اردو میں «دخول، مدخل» اسی معنی میں)۔ ﴿اُدْخُلُوْا فِي السِّلْمِ كَآفَّةً﴾ (البقرۃ ۲:۲۰۸)
دَخَلٌ (اسم ذات): جو چیز خرابی کرے، باعثِ فساد (اس چیز کو کہتے ہیں جو دوسری چیز میں داخل کر دی جائے جب کہ وہ اس میں سے نہ ہو، مثلاً چائے کی پتی میں چنے کے چھلکے ملا دیے جائیں)۔ ﴿تَتَّخِذُوْنَ اَيْمَانَكُمْ دَخَلًا بَيْنَكُمْ﴾ (النحل ۱۶:۹۲)
افعال اَدْخَلَ يُدْخِلُ اِدْخَالًا: داخل کرنا۔ ﴿وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ﴾ (محمد ۴۷:۶)
مُدْخَلٌ (اسم المفعول بطور ظرف): داخل کرنے کی جگہ / داخل کرنا۔ ﴿رَّبِّ اَدْخِلْنِيْ مُدْخَلَ صِدْقٍ﴾ (بنی اسرائیل ۱۷:۸۰)
افتعال اِدَّخَلَ يَدَّخِلُ اِدِّخَالًا: اہتمام سے داخل ہونا؛ مُدَّخَلٌ (اسم المفعول): داخل ہونے کی جگہ۔ ﴿اَوْ مَغٰرٰتٍ اَوْ مُدَّخَلًا﴾ (التوبۃ ۹:۵۷)
اردو میں اس مادے سے: دخل (مداخلت، عمل دخل؛ عربی میں: داخل ہونا)؛ داخل، داخلہ، مداخلت۔