Rizwan Zubair

مادّہ د ع و

قرآنِ کریم میں اس مادّے کی مثالیں: 6 · English

د ع وd-ʿ-w

(ن) دَعَا يَدْعُوْ دُعَاءً: (۱) مدد کے لئے پکارنا، اس کا مفعول بنفسِهِۦ آتا ہے (اردو میں «دعا» اسی معنی میں)۔ ﴿اُدْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ﴾ (المؤمن ۴۰:۶۰)؛ (۲) کسی مقصد یا کام کے لئے بلانا، اس کے مفعول پر اِلٰى کا صلہ آتا ہے۔ ﴿وَاللّٰهُ يَدْعُوْٓا اِلٰى دَارِ السَّلٰمِ﴾ (یونس ۱۰:۲۵)

دَاعٍ (اسم الفاعل): پکارنے والا، بلانے والا (اردو میں «داعی» اسی معنی میں)۔ ﴿اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ﴾ (البقرۃ ۲:۱۸۶)

دَعِيٌّ ج اَدْعِيَاءُ (اسم ذات): منہ بولا بیٹا، لے پالک (یعنی جسے باپ کے علاوہ کسی اور سے منسوب کر کے پکارا جائے)۔ ﴿وَمَا جَعَلَ اَدْعِيَآءَكُمْ اَبْنَآءَكُمْ﴾ (الاحزاب ۳۳:۴)

دَعْوٰى: پکار، پورے وثوق سے کہی ہوئی بات (اردو میں «دعویٰ»: مقدمہ، حق کا اعلان؛ عربی میں: پکار، وثوق سے کہی بات)۔ ﴿دَعْوٰىهُمْ فِيْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ﴾ (یونس ۱۰:۱۰)

افتعال اِدَّعٰى يَدَّعِيْ اِدِّعَاءً: طلب کرنا، مانگنا۔ ﴿وَلَهُمْ مَّا يَدَّعُوْنَ﴾ (یٰسٓ ۳۶:۵۷)

استفعال اِسْتَدْعٰى يَسْتَدْعِيْ اِسْتِدْعَاءً: بلوانا، طلب کرنا (اردو میں «استدعا»: عاجزانہ درخواست، التجا؛ عربی میں: بلوانا، طلب کرنا)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔

اردو میں اس مادے سے: دعوت (کھانے پر بلانا، ضیافت؛ عربی میں: پکار، بلاوا)۔

باب عربی صیغے اور مشتقات اردو میں مستعمل الفاظ قرآنی آیت سورت و آیت کا حوالہ