Rizwan Zubair

مادّہ ب ی ن

قرآنِ کریم میں اس مادّے کی مثالیں: 11 · English

ب ی نb-y-n

(ض) بَانَ يَبِيْنُ بَيْنًا وَبَيَانًا: کسی چیز کا کسی سے جدا ہونا کہ درمیان کی چیز واضح ہوجائے، جیسے کتاب کے صفحات ایک دوسرے سے الگ ہوتے ہیں تو تحریر پڑھی جاتی ہے: ۱ (اردو میں «بیان» اسی معنی میں)۔ الگ ہونا۔ ۲۔ درمیان میں ہونا ۳۔ واضح ہونا۔ ﴿عَلَّمَهُ الْبَيَانَ﴾ (الرحمٰن ۵۵:۴)

بَيْنَ يَدَيْ: دونوں ہاتھوں کے درمیان، سامنے (اردو میں «بین، مابین» اسی معنی میں)۔ ﴿يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ﴾ (البقرۃ ۲:۲۵۵)

بَيِّنٌ (بَيِيْنٌ، فَيْعِل کے وزن پر صفت): ہمیشہ اور ہر حال میں واضح (اردو میں «بیّن، بیّنہ» اسی معنی میں)؛ عام طور پر کسی دلیل کی صفت کے طور پر آتا ہے اور اکثر موصوف حذف کردیا جاتا ہے۔ ﴿وَلَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ﴾ (البقرۃ ۲:۹۹)؛ ﴿حَتّٰى تَاْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ﴾ (البیّنۃ ۹۸:۱)

تفعیل بَيَّنَ يُبَيِّنُ تَبْيِيْنًا: خوب اچھی طرح واضح کرنا۔ ﴿لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيْهِمْ﴾ (النحل ۱۶:۴۴)

افعال اَبَانَ يُبِيْنُ اِبَانَةً: واضح کرنا، واضح ہونا۔ ﴿وَلَا يَكَادُ يُبِيْنُ﴾ (الزخرف ۴۳:۵۲)

مُبِيْنٌ (اسم الفاعل): واضح ہونے والا، واضح (اردو میں «مبین» اسی معنی میں)۔ ﴿وَكِتٰبٌ مُّبِيْنٌ﴾ (المائدۃ ۵:۱۵)

تفعل تَبَيَّنَ يَتَبَيَّنُ تَبَيُّنًا: (۱) بتکلف جدا ہونا، الگ ہونا (۲) کسی چیز کا ازخود واضح ہونا (۳) کسی چیز کے متعلق ذہن کا بتکلف واضح ہونا، یعنی تحقیق، چھان بین کرنا۔ ﴿قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ﴾ (البقرۃ ۲:۲۵۶)؛ ﴿اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَيَّنُوْٓا﴾ (الحجرات ۴۹:۶)

استفعال اِسْتَبَانَ يَسْتَبِيْنُ اِسْتِبَانَةً: (۱) وضاحت چاہنا (۲) واضح ہوجانا۔ ﴿وَلِتَسْتَبِيْنَ سَبِيْلُ الْمُجْرِمِيْنَ﴾ (الانعام ۶:۵۵)

مُسْتَبِيْنٌ (اسم الفاعل): واضح ہوجانے والا۔ ﴿وَاٰتَيْنٰهُمَا الْكِتٰبَ الْمُسْتَبِيْنَ﴾ (الصافات ۳۷:۱۱۷)

باب عربی صیغے اور مشتقات اردو میں مستعمل الفاظ قرآنی آیت سورت و آیت کا حوالہ