ع ز وʿ-z-w
— عِزَة ج عِزُوْن: الگ الگ ٹولیاں، منتشر گروہ؛ اصل عِزْوَة ہے اور لامِ کلمہ محذوف ہے، اسی لیے جمع میں ظاہر ہوتی ہے۔ اہلِ لغت کہتے ہیں کہ اصل مفہوم کسی کی طرف نسبت کرنے کا ہے (عَزَاهُ إِلٰى أَبِيْهِ)، اور ہر ٹولی اپنی الگ نسبت رکھتی ہے۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿عَنِ الْيَمِيْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ عِزِيْنَ﴾ (المعارج ۷۰:۳۷)۔