(ض) عَانَ يَعِيْنُ عَيْنًا (اصلی: عَيَنَ يَعْيِنُ): (۱) نظر لگانا (۲) آنکھ سے آنسو جاری ہونا۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
عَيْنٌ ج اَعْيُنٌ (اسمِ ذات): آنکھ (اردو میں «عین، عینک، عینی»: بالکل، ٹھیک، بذاتِ خود؛ عربی میں: آنکھ؛ چشمہ)۔ ﴿وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ﴾ (المائدۃ ۵:۴۵)؛ «بِاَعْيُنِنَا»: ہماری نگرانی میں۔ ﴿وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْيُنِنَا﴾ (ھود ۱۱:۳۷)
عَيْنٌ ج عُيُوْنٌ (اسمِ ذات): پانی کا چشمہ۔ ﴿عَيْنًا يَّشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللّٰهِ﴾ (الدھر ۷۶:۶)؛ ﴿اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ جَنّٰتٍ وَّعُيُوْنٍ﴾ (الحجر ۱۵:۴۵)
عَيْنَآءُ ج عِيْنٌ (اَفْعَلُ الوان و عیوب کا مؤنث، فَعْلَآءُ کے وزن پر): بڑی اور خوبصورت آنکھوں والی؛ نیز وحشی گائے (کیونکہ اس کی آنکھ بڑی اور چوڑی ہوتی ہے)۔ ﴿وَحُوْرٌ عِيْنٌ﴾ (الواقعۃ ۵۶:۲۲)
مَعِيْنٌ (اصلًا مَعْيِنٌ، مَفْعِلٌ کے وزن پر اسم الظرف): چشمہ جاری ہونے کی جگہ؛ چونکہ وہاں کا پانی نہایت صاف ہوتا ہے، اس لیے یہ لفظ جاری اور شفاف پانی کے معنی میں آتا ہے۔ ﴿فَمَنْ يَّاْتِيْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِيْنٍ﴾ (الملک ۶۷:۳۰)
(تفعیل) عَيَّنَ يُعَيِّنُ تَعْيِيْنًا: کسی چیز کو خاص کر کے مقرر کرنا (اردو میں «معین» اسی معنی میں)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
(تفعّل) تَعَيَّنَ يَتَعَيَّنُ تَعَيُّنًا: مقرر اور طے ہو جانا (اردو میں «تعین، متعین» اسی معنی میں)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
اردو میں اس مادے سے: تعین، متعین۔
«موت کا ایک دن معین ہے» (دیوانِ غالب)