(ض) عَصَبَ يَعْصِبُ عَصْبًا: رسی کو بٹ کر مضبوط کرنا، سخت کرنا۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
عُصْبَةٌ: ایسی جماعت جس کے افراد باہم گتھے ہوئے ہوں، یعنی ایک دوسرے کے حامی و مددگار ہوں؛ مضبوط اور طاقتور جماعت۔ ﴿لَئِنْ اَكَلَهُ الذِّئْبُ وَنَحْنُ عُصْبَةٌ﴾ (یوسف ۱۲:۱۴)؛ ﴿اِنَّ الَّذِيْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنْكُمْ﴾ (النور ۲۴:۱۱)
عَصِيْبٌ (فَعِيْلٌ کے وزن پر صفت): سخت۔ ﴿وَقَالَ هٰذَا يَوْمٌ عَصِيْبٌ﴾ (ھود ۱۱:۷۷)
(تفعّل) تَعَصَّبَ يَتَعَصَّبُ تَعَصُّبًا: اپنی قوم یا گروہ کی بے جا طرف داری کرنا (اردو میں «تعصب، متعصب» اسی معنی میں)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
اردو میں اس مادے سے: تعصب، اعصاب؛ عصبیت (تنگ نظری، گروہی تعصّب؛ عربی میں: قبیلے کی حمایت کا جوش)۔