Rizwan Zubair

مادّہ ع ق م

قرآنِ کریم میں اس مادّے کی مثالیں: 3 · English

ع ق مʿ-q-m

(س) عَقِمَ يَعْقَمُ عَقَمًا: کسی چیز کا ایسا خشک ہونا کہ اس میں کوئی چیز جذب نہ ہو سکے؛ اس بنیادی مفہوم کے ساتھ متعدد معانی میں آتا ہے: بے برکت ہونا، بانجھ ہونا، سخت ہونا، خشک ہونا۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔

عَقِيْمٌ (فَعِيْلٌ کے وزن پر صفت): بے برکت، بانجھ، سخت (اردو میں «عقیم» اسی معنی میں)۔ ﴿فَصَكَّتْ وَجْهَهَا وَقَالَتْ عَجُوْزٌ عَقِيْمٌ﴾ (الذّٰریٰت ۵۱:۲۹)؛ ﴿اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الرِّيْحَ الْعَقِيْمَ﴾ (الذّٰریٰت ۵۱:۴۱)؛ ﴿اَوْ يَاْتِيَهُمْ عَذَابُ يَوْمٍ عَقِيْمٍ﴾ (الحج ۲۲:۵۵)

باب عربی صیغے اور مشتقات اردو میں مستعمل الفاظ قرآنی آیت سورت و آیت کا حوالہ