ع ق لʿ-q-l
(ض) عَقَلَ يَعْقِلُ عَقْلًا: باندھنا، روکنا (اردو میں «عقل، عقلی، عقلمند» اسی معنی میں)؛ اصل مفہوم اونٹ کو رسی سے باندھنے کا ہے (عِقَال = وہ رسی)۔ عَقْل کو یہ نام اس لیے دیا گیا کہ وہ انسان کو بے راہ روی سے روکتا ہے۔ قرآنی نکتہ: قرآن میں یہ مادہ ۴۹ بار آیا ہے اور ہمیشہ فعل کی صورت میں — اسمِ ذات «عَقْل» ایک بار بھی نہیں آیا۔ اہلِ تحقیق نے اس سے یہ نتیجہ نکالا کہ قرآن عقل کو ایک جامد چیز کے بجائے ایک جاری عمل کے طور پر پیش کرتا ہے: ﴿أَفَلَا تَعْقِلُوْنَ﴾، ﴿لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ﴾، ﴿لِقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ﴾۔
اردو میں اس مادے سے: عاقل؛ معقول (مناسب، معتدل، خاطر خواہ؛ عربی میں: عقل میں آنے والا، قابلِ فہم)۔