(ض) عَمَدَ يَعْمِدُ عَمْدًا: (۱) ارادہ کرنا (۲) سہارا دینا، ستون لگانا (اردو میں «عمداً» اسی معنی میں)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
عِمَادٌ (اسمِ جنس، واحد عِمَادَةٌ، جمع عَمَدٌ): جس کا سہارا لیا جائے، ستون۔ ﴿اَللّٰهُ الَّذِيْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا﴾ (الرعد ۱۳:۲)؛ ﴿اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ﴾ (الفجر ۸۹:۷)
(تفعّل) تَعَمَّدَ يَتَعَمَّدُ تَعَمُّدًا: بتکلف (پختہ) ارادہ کرنا، جان بوجھ کر کرنا۔ مُتَعَمِّدٌ (اسم الفاعل)۔ ﴿وَلٰكِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوْبُكُمْ﴾ (الاحزاب ۳۳:۵)؛ ﴿وَمَنْ يَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا﴾ (النساء ۴:۹۳)
(افتعال) اِعْتَمَدَ يَعْتَمِدُ اِعْتِمَادًا: کسی چیز پر ٹیک لگانا، کسی پر بھروسہ کرنا (اردو میں «اعتماد، معتمد» اسی معنی میں)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔