Rizwan Zubair

مادّہ ع م د

قرآنِ کریم میں اس مادّے کی مثالیں: 4 · English

ع م دʿ-m-d

(ض) عَمَدَ يَعْمِدُ عَمْدًا: (۱) ارادہ کرنا (۲) سہارا دینا، ستون لگانا (اردو میں «عمداً» اسی معنی میں)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔

عِمَادٌ (اسمِ جنس، واحد عِمَادَةٌ، جمع عَمَدٌ): جس کا سہارا لیا جائے، ستون۔ ﴿اَللّٰهُ الَّذِيْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا﴾ (الرعد ۱۳:۲)؛ ﴿اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ﴾ (الفجر ۸۹:۷)

(تفعّل) تَعَمَّدَ يَتَعَمَّدُ تَعَمُّدًا: بتکلف (پختہ) ارادہ کرنا، جان بوجھ کر کرنا۔ مُتَعَمِّدٌ (اسم الفاعل)۔ ﴿وَلٰكِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوْبُكُمْ﴾ (الاحزاب ۳۳:۵)؛ ﴿وَمَنْ يَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا﴾ (النساء ۴:۹۳)

(افتعال) اِعْتَمَدَ يَعْتَمِدُ اِعْتِمَادًا: کسی چیز پر ٹیک لگانا، کسی پر بھروسہ کرنا (اردو میں «اعتماد، معتمد» اسی معنی میں)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔

باب عربی صیغے اور مشتقات اردو میں مستعمل الفاظ قرآنی آیت سورت و آیت کا حوالہ