(س) عَلِقَ يَعْلَقُ عُلُوْقًا: کسی چیز کا کسی چیز میں پھنس کر الجھ جانا، چمٹ جانا، لٹک جانا۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
عَلَقٌ، واحد عَلَقَةٌ: چمٹی ہوئی یا لٹکی ہوئی چیز؛ جمے ہوئے خون کا لوتھڑا۔ ﴿خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ﴾ (العلق ۹۶:۲)؛ ﴿ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً﴾ (المؤمنون ۲۳:۱۴)
(تفعیل) عَلَّقَ يُعَلِّقُ تَعْلِيْقًا: چمٹانا، لٹکانا۔ مُعَلَّقٌ (اسم المفعول): لٹکایا ہوا (اردو میں «معلق» اسی معنی میں)۔ ﴿فَتَذَرُوْهَا كَالْمُعَلَّقَةِ﴾ (النساء ۴:۱۲۹)
(تفعّل) تَعَلَّقَ يَتَعَلَّقُ تَعَلُّقًا: کسی چیز سے وابستہ ہونا، لگاؤ رکھنا (اردو میں «تعلق، متعلق، تعلقات» اسی معنی میں)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
اردو میں اس مادے سے: تعلق، متعلق، تعلقات؛ علاقہ (خطہ، حلقہ، سرزمین؛ عربی میں: وابستگی، لگاؤ)۔