Rizwan Zubair

مادّہ ع ذ ر

قرآنِ کریم میں اس مادّے کی مثالیں: 5 · English

ع ذ رʿ-dh-r

(ض) عَذَرَ يَعْذِرُ عُذْرًا وَمَعْذِرَةً: (۱) کسی کو الزام سے بری کرنا، عذر قبول کرنا (عَليٰ کے صلہ کے ساتھ) (۲) خود کو الزام سے بری کرنا، عذر پیش کرنا (اِليٰ کے صلہ کے ساتھ)۔ مَعْذِرَةٌ: عذر، معذرت (اردو میں «معذرت»: معافی مانگنا، خطا کا اعتراف؛ عربی میں: الزام سے بری ہونے کی حجت)۔ ﴿يَوْمَ لَا يَنْفَعُ الظّٰلِمِيْنَ مَعْذِرَتُهُمْ﴾ (المؤمن ۴۰:۵۲)

عُذْرٌ (اسمِ ذات): وہ حجت یا دلیل جس سے الزام کا انکار ہو (اردو میں «عذر» اسی معنی میں)؛ مجبوری، عذر۔ ﴿عُذْرًا اَوْ نُذْرًا﴾ (المرسلٰت ۷۷:۶)

مِعْذَارٌ ج مَعَاذِيْرُ (مِفْعَالٌ کے وزن پر اسم الآلہ): الزام سے بری ہونے کا ذریعہ، عذر، بہانہ۔ ﴿وَلَوْ اَلْقٰى مَعَاذِيْرَهُۥ﴾ (القیٰمۃ ۷۵:۱۵)

(تفعیل) عَذَّرَ يُعَذِّرُ تَعْذِيْرًا: مجبوری بیان کرنے یا بہانے بنانے میں مبالغہ کرنا۔ مُعَذِّرٌ (اسم الفاعل): مجبوریاں بیان کرنے والا، بہانے بنانے والا۔ ﴿وَجَآءَ الْمُعَذِّرُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ﴾ (التوبۃ ۹:۹۰)

(افتعال) اِعْتَذَرَ يَعْتَذِرُ اِعْتِذَارًا: اہتمام سے عذر پیش کرنا۔ ﴿لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ﴾ (التوبۃ ۹:۶۶)

اردو میں اس مادے سے: معذور (مجبور، بے بس، اپاہج؛ عربی میں: جس کا عذر قبول ہو)۔

باب عربی صیغے اور مشتقات اردو میں مستعمل الفاظ قرآنی آیت سورت و آیت کا حوالہ