Rizwan Zubair

مادّہ ا ز ف

قرآنِ کریم میں اس مادّے کی مثالیں: 2 · English

ا ز فʾ-z-f

(س) أَزِفَ يَأْزَفُ أَزَفًا وَأُزُوْفًا: قریب آ لگنا، وقت کا تنگ ہو جانا۔ اہلِ لغت کہتے ہیں کہ اس میں محض قرب نہیں بلکہ اس قرب کی تنگی اور جلدی کا مفہوم بھی ہے، اسی لیے قیامت کے لیے یہ لفظ چنا گیا۔ ﴿أَزِفَتِ الْآزِفَةُ﴾ (النجم ۵۳:۵۷)۔ نوٹ: باب کا تعین خود قرآنی صیغے «أَزِفَتْ» سے ہوتا ہے، جو فَعِلَ کے وزن پر ہے۔

الْآزِفَة (اسمِ فاعل مؤنث): قریب آنے والی، یعنی قیامت کے ناموں میں سے ایک نام۔ ﴿وَاَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْآزِفَةِ﴾ (غافر ۴۰:۱۸)۔ قرآن میں تین بار: ایک بار فعل اور دو بار اسمِ فاعل۔

باب عربی صیغے اور مشتقات اردو میں مستعمل الفاظ قرآنی آیت سورت و آیت کا حوالہ