ا س نʾ-s-n
(ض، ن) أَسَنَ يَأْسِنُ / يَأْسُنُ أُسُوْنًا: پانی کا ٹھہرے رہنے سے بو دار اور بدمزہ ہو جانا، سڑ جانا۔
(س) أَسِنَ يَأْسَنُ أَسَنًا: یہی معنی (اہلِ لغت نے دونوں نقل کیے ہیں)؛ اسمِ فاعل بالترتیب آسِن اور أَسِن آتا ہے۔
آسِن (اسمِ فاعل): بگڑا ہوا، سڑا ہوا پانی۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿فِيْهَا أَنْهَارٌ مِّنْ مَّاءٍ غَيْرِ آسِنٍ﴾ (محمد ۴۷:۱۵) — یعنی ایسا پانی جو کبھی نہ بگڑے۔