(ض) أَنٰى يَأْنِيْ أَنْيًا وَإِنًي: (۱) کسی چیز کا وقت قریب آنا (۲) کسی چیز کا انتہا کو پہنچ جانا، وقت کا آ پہنچنا، پک جانا، پختہ ہو جانا۔ قرآن میں فعل صرف ایک بار: ﴿أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِيْنَ آمَنُوْا﴾ (الحدید ۵۷:۱۶)۔ نوٹ: باب کا تعین اسی قرآنی مضارع «يَأْنِ» سے ہوتا ہے، جو مکسور العین ہے۔
إِنًي (اسمِ ذات): پکنے کا وقت۔ ﴿غَيْرَ نٰظِرِيْنَ اِنٰىهُ﴾ (الاحزاب ۳۳:۵۳)
آنٍ مؤنث آنِيَةٌ (اسمِ فاعل): (۱) قریب ہونے والا، یعنی قریبی (۲) انتہا کو پہنچنے والا، یعنی انتہائی؛ کھولتا ہوا پانی۔ ﴿تُسْقٰى مِنْ عَيْنٍ اٰنِيَةٍ﴾ (الغاشیۃ ۸۸:۵)؛ ﴿حَمِيْمٍ اٰنٍ﴾ (الرحمٰن ۵۵:۴۴)
آنَاء (جمع، واحد إِنًي یا أَنًي): رات کی گھڑیاں۔ ﴿وَمِنْ اٰنَآئِ الَّيْلِ فَسَبِّحْ﴾ (طٰہٰ ۲۰:۱۳۰)
آنِيَة ج أَوَانٍ: برتن۔ ﴿بِاٰنِيَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ﴾ (الدھر ۷۶:۱۵)
أَنّٰى (اسمِ استفہام و شرط): کہاں سے، کیونکر — یہ قرآن میں ۲۸ بار آیا ہے۔ ﴿اَنّٰى يَكُوْنُ لِيْ غُلٰمٌ﴾ (مریم ۱۹:۲۰)۔ قرآن میں یہ مادہ ۳۶ بار، چھ صورتوں میں آیا ہے۔