(ن) أَلَا يَأْلُو أَلْوًا وَأُلُوًّا: کسی کام میں کوتاہی کرنا، کم کرنا؛ عام طور پر نفی کے ساتھ آتا ہے۔ ﴿لَا يَاْلُوْنَكُمْ خَبَالًا﴾ (اٰل عمران ۳:۱۱۸) — یعنی تمہیں نقصان پہنچانے میں کوئی کمی نہیں کرتے۔
افعال آلٰى يُؤْلِيْ إِيْلَاءً: قسم کھا لینا، خصوصاً بیوی سے دور رہنے کی قسم — اسی سے فقہ کی اصطلاح «ایلاء» ہے۔ ﴿لِلَّذِيْنَ يُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِمْ﴾ (البقرۃ ۲:۲۲۶)
افتعال ائْتَلٰى يَأْتَلِيْ ائْتِلَاءً: قسم کھانا، نیز کوتاہی کرنا۔ ﴿وَلَا يَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ﴾ (النور ۲۴:۲۲)
آلَاء (جمع، واحد أَلًي یا إِلْي): نعمتیں — یہی لفظ سورۃ الرحمٰن میں اکتیس بار دہرایا گیا۔ ﴿فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ (الرحمٰن ۵۵:۱۳)۔ قرآن میں یہ مادہ ۳۷ بار آیا ہے: ایک بار ثلاثی مجرد، ایک بار افعال، ایک بار افتعال، اور ۳۴ بار آلَاء۔