ا ل مʾ-l-m
(س) أَلِمَ يَأْلَمُ أَلَمًا: درد محسوس کرنا، تکلیف پانا۔ ﴿فَاِنَّهُمْ يَاْلَمُوْنَ كَمَا تَاْلَمُوْنَ﴾ (النساء ۴:۱۰۴)۔ نوٹ: باب کا تعین خود قرآنی مضارع «يَأْلَمُ» سے ہوتا ہے۔
أَلَم (مصدر کے علاوہ اسمِ ذات بھی): درد، تکلیف (اردو میں «الم» اسی معنی میں)۔
أَلِيْم (وزن فَعِيْل): سخت دردناک — یہ صفت قرآن میں عذاب کے لیے مخصوص ہے، اور فَعِيْل کا وزن اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ درد دائمی اور راسخ ہے۔ ﴿وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ﴾ (البقرۃ ۲:۱۰)۔ قرآن میں یہ مادہ ۷۵ بار آیا ہے: تین بار فعل اور ۷۲ بار صفت أَلِيْم۔
«ہجرِ یاراں وطن کا بھی الم ہے ہم کو» (دیوانِ غالب)