(ن) اَخَذَ يَاْخُذُ اَخْذًا: کسی چیز کا احاطہ کرنا (اردو میں «اخذ» اسی معنی میں)؛ اس بنیادی مفہوم کے ساتھ مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے: پکڑنا، لینا، غالب آنا۔ ﴿لَا تَاْخُذُهُۥ سِنَةٌ وَّلَا نَوْمٌ﴾ (البقرۃ ۲:۲۵۵)
خُذْ (فعل امر): تو پکڑ، تو لے۔ ﴿خُذِ الْعَفْوَ﴾ (الاعراف ۷:۱۹۹)
اٰخِذٌ (اسم الفاعل): پکڑنے والا، لینے والا۔ ﴿اٰخِذِيْنَ مَآ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ﴾ (الذّٰریٰت ۵۱:۱۶)
مفاعلہ اٰخَذَ يُؤَاخِذُ مُؤَاخَذَةً: کسی کو کسی غلطی پر پکڑنا، جواب طلبی کرنا (اردو میں «مؤاخذہ» اسی معنی میں)۔ ﴿لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِيْٓ اَيْمَانِكُمْ﴾ (البقرۃ ۲:۲۲۵)
افتعال اِتَّخَذَ يَتَّخِذُ اِتِّخَاذًا: کسی کو کچھ بنانا (یعنی اہتمام سے پکڑنا)، جیسے دوست بنانا؛ اس میں دو مفعول ہوتے ہیں: کس کو بنایا، کیا بنایا۔ ﴿وَاتَّخَذَ اللّٰهُ اِبْرٰهِيْمَ خَلِيْلًا﴾ (النساء ۴:۱۲۵)
اِتَّخِذْ (فعل امر): تو بنا۔ ﴿فَاتَّخِذْهُ وَكِيْلًا﴾ (المزمل ۷۳:۹)؛ مُتَّخِذٌ (اسم الفاعل): بنانے والا۔ ﴿وَمَا كُنْتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّيْنَ عَضُدًا﴾ (الکھف ۱۸:۵۱)
اردو میں اس مادے سے: ماخوذ، مأخذ۔
«بچتے نہیں مواخذۂ روزِ حشر سے» (دیوانِ غالب)