ا ج لʾ-j-l
(س) اَجِلَ يَاْجَلُ اَجَلًا: کسی مشکل میں یا کسی چیز میں مبتلا ہونا۔
اَجَلٌ (اسمِ ذات): (۱) مدت (ابتلا کے جاری رہنے کی) (۲) وقت (ابتلا کے خاتمے کا) (اردو میں «اجل»: موت، وقتِ مرگ؛ عربی میں: مقررہ مدت، میعاد)۔ ﴿فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا يَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّلَا يَسْتَقْدِمُوْنَ﴾ (الاعراف ۷:۳۴)
اَجْلٌ: سبب، وجہ۔ ﴿مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ﴾ (المائدۃ ۵:۳۲)
تفعیل اَجَّلَ يُؤَجِّلُ تَاْجِيْلًا: وقت مقرر کرنا۔ ﴿لِاَيِّ يَوْمٍ اُجِّلَتْ﴾ (المرسلٰت ۷۷:۱۲)
مُؤَجَّلٌ (اسم المفعول): مقرر کیا ہوا وقت۔ ﴿كِتٰبًا مُّؤَجَّلًا﴾ (اٰل عمران ۳:۱۴۵)
«زندگی وہ ہے کہ جو ہو نہ شناسائے اجل» (بانگِ درا)