— اہلِ لغت کہتے ہیں کہ اصل مفہوم پہنچنے اور حد تک جا پہنچنے کا ہے۔ قرآن میں یہ مادہ تین بار آیا ہے اور ہر بار بطورِ اسم۔
أُفُق: کنارہ، وہ حد جہاں نظر ختم ہو (اردو میں «افق» اسی معنی میں)؛ آسمان و زمین کے ملنے کا کنارہ۔ الْأُفُق الْمُبِيْن: آسمان کا کھلا کنارہ۔ ﴿وَلَقَدْ رَاٰهُ بِالْاُفُقِ الْمُبِيْنِ﴾ (التکویر ۸۱:۲۳)
آفَاق (جمع): قرآن میں کائنات کے بیرونی مظاہر کے لیے آیا ہے، اور اس کے مقابل أَنْفُس (باطن) رکھا گیا (اردو میں «آفاق، آفاقی» اسی معنی میں)۔ ﴿سَنُرِيْهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِيْ أَنْفُسِهِمْ﴾ (فصلت ۴۱:۵۳)
«افق سے آفتاب ابھرا، گیا دورِ گراں خوابی» (بانگِ درا)
«کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے» (ضربِ کلیم)